جائزہ
کانفیکشنر گلاز، جسے شیلک، فارماسیوٹیکل گلاز، ریزینی گلاز، خالص خوراک کا گلاز، یا قدرتی گلاز (E904) بھی کہا جاتا ہے، ایک خوراک کا اضافہ ہے جو کینڈیز، چاکلیٹس، گولیاں اور پھلوں کو چمکدار، ہموار سطح دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ نباتات یا مصنوعی کیمیکلز سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ کیڑوں سے ماخوذ ہے۔
ماخذ
شیلک مادہ لاک کیڑے (Kerria lacca) کے رال نما افراز کا نام ہے، جو ہندوستان اور تھائی لینڈ کے جنگلات میں پایا جانے والا ایک کیڑا ہے۔ یہ کیڑے درخت کی شاخوں پر نلی نما سرنگیں بنانے کے لیے رال خارج کرتے ہیں۔ اس رال (سٹک لاک) کو کھرچ کر، پروسیس کر کے، اور اتینول میں حل کر کے مائع گلاز تیار کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہزاروں کیڑے اس کی کٹائی میں شامل ہوتے ہیں، لہٰذا صفائی سے پہلے کیڑوں کے اجزاء کا رال میں ملنا ناگزیر ہے، اگرچہ زیادہ تر پروسیسنگ کے دوران نکال دیے جاتے ہیں۔
اسلامی حکم - علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے
شیلک کی حلت کے بارے میں اسلامی علماء کے درمیان ایک قابل ذکر اختلافِ رائے موجود ہے۔
1. جائز قرار دینے والا نقطہ نظر (حلال):
* مالکی مسلک: عام طور پر کیڑوں کو پاک (طاہر) سمجھتا ہے۔ اس لیے ان کا افراز جائز ہے۔
* بعض حنفی علماء: شہد سے قیاس کرتے ہیں۔ جس طرح شہد مکھی (ایک کیڑا) کا جائز افراز ہے، اسی طرح وہ دلیل دیتے ہیں کہ شیلک لاک کیڑے کا جائز افراز ہے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ کیمیائی پروسیسنگ (الکحل میں حل کرنا اور گرم کرنا) استحالہ (تبدیلی) ہے، جس سے یہ پاک ہو جاتا ہے۔
* اہم ادارے: سرٹیفیکیشن باڈیز جیسے جاکم (ملائیشیا) اور ایم یو آئی (انڈونیشیا) نے تاریخی طور پر شیلک کو حلال تسلیم کیا ہے۔
2. ناجائز قرار دینے والا نقطہ نظر (حرام/مکروہ):
* شافعی اور حنبلی مسالک: عام طور پر کیڑوں اور ان کے افرازات (سوائے واضح مستثنیات جیسے شہد) کو ناپاک (نجس) سمجھتے ہیں۔ کیڑوں کا استعمال حرام ہے۔
* بعض حنفی علماء: لاک کیڑے کو حشرات (گھناؤنے کیڑے) میں شمار کرتے ہیں۔ چونکہ رال کیڑوں کے قریب سے رابطے میں رہتی ہے اور کٹائی کے دوران اس میں کیڑے کا خون/سیال شامل ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اسے ناجائز یا کم از کم مشتبہ (مشبُوہ) قرار دیتے ہیں۔
* وجیٹیرین حیثیت: اسے وجیٹیرین تو سمجھا جاتا ہے لیکن ویگن نہیں، کیونکہ یہ ایک حیوانی مصنوع ہے۔
اہم نکات
- الکحل کا استعمال: شیلک کو استعمال کرنے کے لیے اکثر اتینول (الکحل) میں حل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ الکحل بخارات بن کر اڑ جاتا ہے، لیکن بعض علماء خوراک کی پروسیسنگ میں الکحل کے استعمال پر اعتراض کرتے ہیں۔
- کیڑوں کی آلودگی: گلاز میں کیڑوں کے اجزاء کے باقی رہنے کا امکان سخت گیر علماء کے لیے ایک بنیادی تشویش ہے۔
- محتاط مشورہ: جائز اختلاف اور کیڑوں سے ماخوذ ہونے کی وجہ سے، ایک محتاط رویہ یہ ہے کہ کانفیکشنر گلاز سے پرہیز کیا جائے، سوائے اس کے کہ مصنوعات کسی معتبر اتھارٹی کی طرف سے واضح طور پر حلال سرٹیفائیڈ ہو جو پیداواری عمل کی نگرانی کرتی ہو۔
حوالہ جات
ڈس کلیمر: یہ تجزیہ تحقیق اور مصنوعی ذہانت کی تصدیق کا مجموعہ ہے۔ یہ کوئی فتوٰی نہیں ہے۔ علماء کا اس معاملے میں حقیقی اختلاف ہے۔ براہ کرم اپنے خاص حالات اور مسلک کے مطابق مذہبی احکامات کے لیے اہل علماء سے رجوع کریں۔